15 ستمبر 2026 - 16:03
ایران کے خلاف جنگ؛ پینٹاگون کا امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر میں شدید کمی کا اعتراف

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی نئی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ نے امریکی فوجی ذخائر پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ واشنگٹن نے جنگ کے دوران اربوں ڈالر خرچ کرنے کے ساتھ بڑی مقدار میں گولہ بارود استعمال کیا، متعدد میزائلوں اور دفاعی نظاموں کے ذخائر میں کمی آئی، درجنوں طیارے اور ڈرونز تباہ یا متاثر ہوئے اور امریکی دفاعی صنعت کو استعمال ہونے والے اسلحے کے ذخائر تیزی سے دوبارہ بھرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے نہ صرف امریکہ پر بھاری مالی اور فوجی اخراجات عائد کیے بلکہ اس کے اہم گولہ بارود کے ذخائر کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ رپورٹ میں امریکی دفاعی صنعت کی اس کمزوری کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے اسلحے کو تیزی سے دوبارہ تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

پیر کے روز امریکی کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے نام سے جاری اس کارروائی پر 28 فروری سے 30 جون 2026 تک تقریباً 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جس میں سے 22.3 ارب ڈالر صرف استعمال کیے گئے گولہ بارود پر خرچ ہوئے۔

تاہم امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات سمیت کئی دیگر اخراجات اس رقم میں شامل نہیں ہیں۔ امریکی جنگی ماہرین کے مطابق جنگ میں ہونے والے حقیقی اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے واضح کیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر گولہ بارود استعمال ہونے کے نتیجے میں امریکی ذخائر میں ’’اہم کمی‘‘ پیدا ہوئی اور ساتھ ہی دفاعی صنعت میں اسلحہ دوبارہ فراہم کرنے کی صلاحیت سے متعلق رکاوٹیں بھی سامنے آئیں۔

رپورٹ کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ امریکہ نے اپنے موجودہ ذخائر کا ایک بڑا حصہ استعمال کیا، بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ امریکی دفاعی صنعت ان ذخائر کو تیزی سے دوبارہ بھرنے کی صلاحیت میں محدود دکھائی دیتی ہے۔

ٹرمپ کے دعوے اور پینٹاگون کی رپورٹ میں فرق

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا امریکی اسلحہ کے ذخائر میں کمی سے متعلق خدشات کو مسترد کر چکے ہیں۔

ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے پاس ’’تقریباً لامحدود گولہ بارود‘‘ موجود ہے۔

انہوں نے پیر کے روز بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنی تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ ’’اعلیٰ معیار کے ہتھیار‘‘ تیار کر رہا ہے۔

تاہم امریکی محکمہ دفاع کی نگرانی کرنے والے ادارے کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلحے کی پیداوار میں اضافہ لازماً اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ طویل جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے گولہ بارود کو تیزی سے دوبارہ ذخیرہ کیا جا سکے گا۔

دور مار میزائلوں اور دفاعی نظاموں پر دباؤ

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اس سے قبل امریکی دور مار میزائلوں اور فضائی دفاعی نظاموں کے لیے استعمال ہونے والے میزائلوں کے ذخائر پر دباؤ سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آ چکی ہیں۔

سی این این کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق دور مار میزائلوں اور فضائی دفاعی نظاموں کے میزائلوں کی کمی نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی حکمت عملی کو متاثر کیا۔

اسی سلسلے میں امریکی ’’تھاڈ‘‘ دفاعی نظام کے میزائلوں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی ہوئی اور رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ان میزائلوں کے تقریباً 80 فیصد ذخائر استعمال کر لیے۔

جنگ کے بھاری اخراجات اور امریکی فوجی سازوسامان کو نقصان

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق جنگ نے صرف امریکی گولہ بارود کے ذخائر کو متاثر نہیں کیا بلکہ امریکی فوجی طیاروں اور ڈرونز کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں درج نقصانات کے مطابق:

  • 4 ایف 15 جنگی طیارے تباہ ہوئے؛

  • ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نقصان پہنچا؛

  • 7 کے سی 135 فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے متاثر ہوئے؛

  • اور 30 تک ایم کیو 9 ریپر ڈرونز تباہ ہوئے۔

ان نقصانات اور 33.4 ارب ڈالر کے جنگی اخراجات کو ملا کر دیکھا جائے تو واشنگٹن کے لیے اس جنگ کی بھاری قیمت واضح ہوتی ہے۔

جنگ کے پہلے روز ایک ہزار سے زیادہ اہداف پر حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جنگ کے پہلے 24 گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے ایران میں ایک ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔

تاہم اس کے بعد کے مہینوں میں امریکی فوج نے اسی پیمانے پر بڑے حملے دوبارہ نہیں کیے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ ان حملوں میں کمی کی وجہ براہِ راست گولہ بارود کی کمی قرار نہیں دی گئی، تاہم اس صورت حال کا تعلق جنگ کے دوران اسلحے کے ذخائر کو منظم رکھنے کی ضرورت سے ہوسکتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، جنگ کے آغاز میں بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کی صلاحیت اور کئی ماہ تک اسی شدت کے حملے جاری رکھنے کی صلاحیت ایک جیسی نہیں۔ پینٹاگون کی نئی رپورٹ بھی امریکی ذخائر اور اسلحے کی دوبارہ فراہمی کے اسی مسئلے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

امریکی فوجی اڈے بھی ایرانی میزائلوں کی زد میں

رپورٹ کے ایک اہم حصے میں خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کے مطابق ایران کے حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیکڑوں عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔

تاہم ان نقصانات کو 33.4 ارب ڈالر کے جنگی اخراجات میں شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ تمام متاثرہ اڈوں کی تعمیر نو کی جائے گی یا ان کے اخراجات کس فریق کو برداشت کرنا ہوں گے۔

اس طرح رپورٹ جنگ کے اخراجات کو صرف میزائلوں اور گولہ بارود کے استعمال تک محدود نہیں رکھتی بلکہ مختلف ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کی ممکنہ تعمیر نو بھی واشنگٹن کے لیے اضافی بھاری اخراجات کا سبب بن سکتی ہے۔

اصل کمزوری؛ شدید جنگ اور محدود پیداواری صلاحیت

پینٹاگون کی رپورٹ کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس نے کتنا گولہ بارود استعمال کیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ استعمال ہونے والے اسلحے کو کتنی تیزی سے دوبارہ تیار کرسکتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکہ نے اپنی دفاعی صنعتی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ محدود نوعیت کی جنگوں اور مختصر فوجی کارروائیوں کی ضروریات کے مطابق منظم کیا تھا۔ لیکن ایسی شدید جنگ جس میں بڑی تعداد میں جدید میزائل، فضائی دفاعی میزائل اور فضائی حملوں کے لیے گولہ بارود استعمال ہو، امریکی دفاعی صنعت کے لیے ایک مختلف نوعیت کا امتحان بن سکتی ہے۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں دفاعی صنعت میں موجود ’’رکاوٹوں‘‘ کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھاری دفاعی بجٹ اور جدید ترین فوجی سازوسامان رکھنے کے باوجود امریکہ کے پاس طویل اور شدید جنگ کے لیے اسلحے کی تیز رفتار پیداوار اور دوبارہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha